نفس اور ضمیر حصّہ اوّل

0
354

نفس اور ضمیر حصّہ اوّل

اس کی یاد جب انگڑائی لیتی ہے تو جسم چور چور ہو جاتا ہے. اس سے بچھڑےتو اب ١٠ سال ہو گیے ہیں اور وقت کے دھول نے زخم منھمند کر لئے ہیں، لیکن پھر بھی جب انکی یادوں کی بارش ہوتی ہے تو زخم اسے ہرے ہو جاتے ہے جسےآج ہی جسم پر لگے ہو.

وہ احساس وہ جذبات، وہ اس کی ایک پلک دیکھنے سے خود میں نہ رہنا، وہ اس کی خوشبو سے جسم وہ جان کا معطر ہو نہ. کتنا پاکیزہ تھا وہ بے نام رشتہ، ہر قسم خودغرضی سے بالاتر، مفاد پرستی تو خیر تھی ہی نہیں. لیکن کیا یا سچ نہیں ہے کہ یا جذبہ تو صرف ایک ہی طرف سے تھا.

آج بھی اپنی اس نادانی کے سامنے لاجواب ہوں. یہ نہیں کہ جواب معلوم نہیں، لیکن یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہی رسوایی ہے. اس سوال کے جواب میں منزل مقصد نہیں, بلکہ رستے میں کی الجھنا ہے.

وہ سر تا پاؤں محبوب تھا، اور میں عاشق ہی عاشق. میں اس امر سے کیسے خود کو بےنیاز کر دیتا تھا کہ یہ منزل ہی لامتناہی ہے. لیکن منزل کی پروا کیسے تھی. ہمیں تو رستے میں کھو جانا تھا. کیا آج بھی میں جھوٹ بول رہا ہوں کہ منزل تو میرے بس میں ہی نہیں تھا. اگر ایسا تھا بھی تو بخدا آج مجھے ذرا برابر ندامت کیوں نہیں؟ کیا میں کامیاب ہو گیا؟ نہیں تو ………. تو پھر سر شاری کس بات کی؟ گر میں محبوب سے بےنیاز ہو گیا تو پھر کیوں اپنے وجود کو چھلنی چھلنی محسوس کرتا ہوں. دوسرا حصّہ

ضروری نہیں کے انتہا پر منزل کامیابی ہو، شاہد ابتدا میں ہی کامیابی پنہا ہو، اور انتہا ناکامی کا پیش خیمہ ہو. ہمارے ساتھ بھی محبت میں کچھ یوں ہی ہوا، ہماری نظر محبت کی انتہا پر تھی اور محبوب ابتدا میں ہی انتہا کو چھونا چاہتا تھا. ہماری ناہلی ہی تھی کہ اس گھڑی کو سمجھ ہی نہیں سکے. محبوب بڑا حساس تھا، ہونا بھی چاہیے کہ محبوب کا خاصا ہے اپنی ذات کے بارے میں حساس ہوتا ہے.

اس کا یہ خدشہ تھا بھی بجا، کہ وہ خوبصورتی جس نے اسے شمع اور مجھے پروانہ بنایا تھا اس کی عمر تھی ہی کتنی؟ بس چند سال، ویسے خوبصورتی کو زوال بھی جلدی ہوتا ہے. اور اس وقت پروانے تھے بھی اتنے کہ اس شمع کو سب سے ممتاز کر دیا تھا.

بس پھر کیا تھا کہ اک پروانہ اس دوڑ میں اتنا تیز نکلا کہ شمع کو اپنے پروں میں سما کر لے گیا. شمع پھر بھی روشن رہا. لیکن اس کی روشنی میرے لئے نہیں بلکہ کسی اور کے لئے تھی. ہاں یہ ضرور تھا کہ جب بھی تند و تیز ہواؤں نے شمع کو پریشان کیا، اس نے ضرور ہمیں پکارا. اور ہم اس کی ہر پکار پر نہ صرف لبیک کہتے رہے بلکہ اسے سرمایا حیات بھی سمجھتے ہیں. تیسرا پارٹ !!

یہ 1997 کی بات ہے ۔۔ نئی نئی جوانی کا زور تھا اور وہ بھی مُنہ زور جوانی ‘ میں بھی ہر لڑکے کی طرح شہوت پرست تھا ۔۔ جہاں کوئی لڑکی دیکھی بس دل مچلنا شروع ہو جاتا۔۔ بس دل چاہتا کے دل وجان سب نچھاور کر دوں اُس پہ اور بدلے میں بس اُس کا لمس مل جائے ۔۔ اُس کی خوشبو میں گم ہو جاؤں ۔۔۔ میں اس کام میں اتنا ماہر ہو چُکا تھا یا یہ سمجھ لیجئے کہ مجھے خود پہ اتنا یقین ہو گیا تھا کہ مجھے پتھر کو بھی پگھلانے پہ عبور حاصل تھا۔۔۔

پتنگ بازی کا شوق نہیں تھا پھر بھی اُس دِن پتنگ اُڑانے کے بہانے شام چھت پہ چڑھ گیا۔۔ دل کو ڑور سے باندھے ‘ ہوا میں اُچھل رہا تھا کہ کہیں کوئی حسینہ نظر آجائے اور اُس کے ساتھ دل کی پتنگ اُلجھے اور میں اُس کے قدموں میں دل کی پتنگ رکھ دوں ۔۔۔ کچھ دس ایک گھر چھوڑ کر وہ نظر آئی ۔۔ جو دوشیزہ کے دور سے تقریباً گزر چُکی تھی اور ایک بھر پور عورت کے دور میں داخل ہو رہی تھی۔۔ ایک بھری ہوئی لڑکی ‘ جس کے انگ انگ سے بھرپور جوانی کا سیلاب رواں تھا اور میرا بے اختیار اُس میں ڈوب جانے کو دل مچلا ۔۔ بےاختیار ہاتھ ہوا میں بلند ہوا اور حسینہ کو اشارے سے لویو کا پیغام دے ڈالا۔۔ اور اگلے ہی لمحے میں خوشی سے سر شار ہو گیا کیوں کہ وہاں سے رددِعمل سخت نہیں تھا ۔۔ اُس نے شرم سے پلکیں جُھکا لیں ۔۔۔ بس پھر کیا تھا اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ وارے نیارے ہو جائیں گئے ۔۔ یعنی پانچوں گھی میں اور سر کڑہائی میں ” ۔۔!! چونکہ اس کھیل کا پرانا اور منجھا ہوا شہسوار تھا ،۔اس لئے اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ اس قلعے کو فتح کرنے میں اتنی جدوجہد درکار نہیں ۔۔ اس معرکہ میں اپنا حوصلہ اس حد تک تھا کہ اُس وقت تک یلغار نہیں کرنی جب تک کے فتح یقینی نہ لگے ۔۔ ۔۔ محمود غزنوی نے تو 17 سال کی عمر میں 17 حملے کر ڈالے تھے ۔۔ھم نے بھی اپنے 17 سال کے ہونے کا فائدہ اُٹھانے کا اور ایک ہی دن میں 17 حملے کے خواب دیکھ ڈالے ۔۔ اور فتح کے جھنڈے گاڑنے کا پختہ ارادہ کر لیا ۔۔۔ اُس کا نام مجھے پتہ نہیں تھا پر مجھے وہ کسی سلطنت کی ملکہ نظر آتی تھی ۔۔ میں نے اُسے اپنی نور جہان کا خطاب دے دیا ۔۔ ہم نے چھت سے ایک دوسرے کو اشارے کرنے اور ان اشاروں میں ہی کبھی محبت کی ادا ‘ کبھی ناز’نخرہ ۔۔۔ پھر جب مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اب یہ قلعہ خود ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہے تو ایک دن شام کو تمام حدیں پار کرتا میں اُس کے چھت پہ پہنچ گیا ۔۔ کبھی بلی کی چال چل کہ جیسے وہ چوری کا دودھ یا گوشت کھانے جاتی ہے ۔۔ ویسے مجھے بھی یہ ہی مقصود تھا۔۔ بس وہاں پہنچنے کی دیر تھی کہ خود کو نورجہاں کے قدموں میں ڈال دیا۔۔ بس پھر ایک عجیب ہی کیفیت تھی۔۔ اُس کے ہونٹ کو چُھوا۔۔ ساتھ میں اُس کے جوانی کے غبارہ پہ ہاتھ رکھا کہ بے اختیار اُس کے مُنہ سے سیلاب کی آمد کے سُریں بجنے لگی ۔۔ جب اس سیلاب کے مدوجزر میں غوطہ کھا لے اور کچھ سنبھالے تو نورجہاں سے بات کرنا چاہی ۔۔ پر یہ کیا ۔۔ یہ تو اب بھی ہاتھ سے اشاروں میں بات کر رہی ہے ۔۔ میں نے مُسکرا کر اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اور کہا کہ ” اوہ میری نور جہاں اب آپ بول سکتی ہیں ہم دیوار کے پیچھے ہیں ۔۔ اور کوئی نہیں جو دیکھ رہا ہے ” مگر نورجہاں پھر بھی بولنے سے قاصر اُس نے اپنے ہاتھوں کے اشارہ سے سمجھایا کہ ” وہ پیدائشی گونگی ہے ” !!

ایک پل کو لگا کہ اب زمین پھٹ جائے اور میں اس میں دب جاؤں ۔۔ عجیب احساسِ ندامت تھا۔۔ جبکہ زبردستی کچھ بھی نہ تھا ۔۔

وہ گونگی تھی۔۔ بے زبان ۔۔ مجھے اُس وقت افسوس ہوا ۔۔ مگر صرف اُتنا جتنا کہ ایک 17 سال کے لڑکے کو ہو سکتا تھا ۔۔ ایک بے شعوری ہمدردی کا جذبہ جاگا۔۔ ایک ایسا جذبہ جو ہمدردی اور شہوت جسم کے درمیان بے دریغ کھڑا تھا ۔۔۔

میں سوچتا ہوں کہ اُس وقت نورجہاں کی عمر 27 تھی۔۔۔ اُس میں اتنا مدوجزر کیوں آیا۔۔ میں اُس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا ۔۔۔

( جاری ہے )

SHARE

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY