Red Dress (URDU)

0
71

لال جوڑا !!

اماں میرا دل کرتا ہے کہ جب میرے رشتہ کی بات چلے تو ۔۔۔ میں تیرے ساتھ تیار ہو کے لڑکے والوں کے گھر جاؤں۔۔ لڑکا ٹرے میں چائے ‘بسکٹ اور سموسے لئے کے آئے۔۔ اور میں اُسے اوپر سے نیچے تک للچائی ہوئی نظروں سے دیکھوں ۔۔ پھر ہم سموسوں پہ ہاتھ صاف کریں اور ساتھ ساتھ اماں تو یہ بھی کہتی جائے کہ باہر کے کھانوں کا شوق نہیں بہت ہیلتھ کونشیز ہے میری بچی۔۔۔ پھر لڑکے سے رسمً بات چیت ہو۔۔ اور چائے میں بسکُٹ کی پوری پلیٹ ڈبو ڈبو کر شڑپ شڑپ کر کے ہڑپ کر جائیں ۔۔۔ اور گھر جا کر فون پہ کہہ دیں۔۔۔ ہمیں آپکا بیٹا پسند نہیں آیا ۔۔ ” موٹا بھدا سا ہے ‘ رنگ گہرا ہے ‘ قد چھوٹا ہے میچ نہیں کرے گا ساتھ میں کھڑا ‘ یا پھر یہ کہہ دیں کہ ” آپ کی حیثیت نہیں گاڑی دِلوانے کی ‘ یا جہیز کم دے رہے ہیں ” ہائے اماں کتنا مزہ آئے ناں۔۔۔ سارہ آنکھوں میں خواب سجاتے ہوئے بولی۔۔۔ پاس میں بیٹھی دادی نے گھوما کے چھڑی دے ماری اور اماں کو گھورتے ہوئے بولیں ” تیرے لاڈ پیار نے اِس کا دماغ خراب کر دیا ہے ” ۔۔۔ ایے لو جو زمانے کا دستور ہے وہ بدلنے چلی ہے۔۔ باولئ ہو گئی ہے کیا۔۔ سارہ تلملا اُٹھی اور چِلا کے بولی ” کیوں دادی کیوں ہے ایسا دستور کہ جس میں ایک لڑکی کو انسان بھی نہ سمجھا جائے۔۔ اُس کے ساتھ بھیڑ بکری والا سلوک ہو ۔۔۔ اُس کی پسند نہ پسند کی کوئی اہمیت ہی نہیں ” دادی نے ایک بار پھر اماں کو غصہ سے دیکھتے ہوئے بولا “اس کو سمجھا رضیہ ورنہ کل کو پچھتائے گی ۔۔ارے گز بھر لمبی زبان ہے اس کی کون بیاہے گا اِسے۔۔ ساری زندگی کیا ھماری چھاتی پہ مونگ دلے گئ؟؟ نہ کر فکر دادی ۔۔۔ جیسے ابا نے اور تو نے آپا کو ایک بُڈھے کی تیسری بیوی کے نام پہ بیچ ڈالا ہے ویسے کوئی میرے لئے بھی مل جائے گا اور ہاں اب کی بار پیسے زیادہ مانگنا بھائی موٹر سائیکل مانگ رہا ہے۔۔۔ سارہ روتے اور چیختے ہوئے بولے جا رہی تھی کہ اماں آنکھوں میں آنسو لئے ‘ اُسے پکڑ کے جنجھوڑا اور کہا ” دادی سے اُونچی آواز میں بات نہیں کرتے ” اور تیری آپا کی جو قسمت اُسے وہ مل گیا میری بچی ۔۔۔” ۔ اللہ( سبحان و تعالٰی) نے بھائی کی قسمت اچھی بنائی اور ہماری نہیں ۔۔۔بس کر دے اماں یہ قسمت قسمت کرنا ۔۔ یہ کیوں نہیں کہتی کہ بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں۔۔ اِس سے اچھا تھا پیدا ہوتے مار دیتا ابا ۔۔ یوں ہر روز تو مرنا نہ پڑتا۔۔۔۔اور نہ ہی آپا کو زندہ درگور ہونا پڑتا۔۔۔

یہ کہانی ہر اُس گھر کی ہے جہاں معاشی حالات نہیں اچھے ‘ جہاں بیٹی معاشرہِ کی خوبصورتی کے معیار پہ پورا نہیں اُترتی ۔۔ جہاں بیٹی ہونا ایک جرم ‘ ایک بوجھ بن جاتا ہے۔۔۔ آج ہمارے معاشرے میں ہر گھر میں جوان بن بیاہی بیٹیاں ‘ بہنیں بیٹھی ہیں۔۔۔ اچھے رشتوں کے انتظار میں۔۔۔ یاں یوں کہہ لیں کہ ” ایسے رشتے کے انتظار میں جو ٹھلتی عمر کو نظر انداز کر سکیں ‘ جو جہیز کی ایک لمبی فہرست نہ تھمائیں ۔۔ جن کی خوبصورتی کا معیار ساتواں آسمان پہ نہ ہو ۔۔۔

اسلام عورت کو اُسکی مرضی کی شادی کا حق دیتا ہے۔۔ اور ہم اُسکی مرضی تو دور کی بات اُسکو بتانا ‘ پوچھنا مناسب نہیں سمجھتے ۔۔۔ جہاں دل کرتا ہے اُس کو قربان کر دیتے ہیں ۔۔ کبھی بھائی کی خوشی کے لئے’ کبھی گھر والوں کی مجبوری ۔۔۔

افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہم اپنی بیٹی ہاتھ باندھ کے بیاہ دیتے ہیں اور اگلے کی بیٹی جوتے کی نوک پہ لے کے آتے ہیں ۔۔۔ کسی کی بھی بیٹی گھر لاتے ہوئے ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کے کل کو ہم نے اپنی بیٹی بھی بیاہنی ہے۔۔ جس کو بیاہ کے لا رہے ہیں وہ ایک جیتی جاگتی ‘ سوچ سمجھ ‘ احساس اور جذبات رکھنے والی انسان ہے ۔۔ کوئی بھیڑ بکری نہیں ۔۔ !!

جانے ہم کیسے مُسلمان ہیں۔۔۔ جو بس نام کے مُسلمان ہیں ۔۔۔

کہنے کو بہت کچھ ہے پر سوچ رہی ہوں ۔۔۔ کون سُنے گا؟؟ کون عمل کرے گا ؟؟

غالب نے سچ ہی کہا تھا ۔۔۔

کعبہ کس مُنہ سے جاؤ گے غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی

Read this blog in English HERE

SHARE

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY